Screenshot_2025_0502_180320

 

ایف آئی اے ایک بار پھر شفافیت کے نام پر دھندلا کھیل کھیلنے جا رہا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے راجہ رفعت مختار کے دستخط سے جاری تازہ حکم نامہ کیا روٹیشن پالیسی کی آڑ میں کروڑوں روپے کے فنڈز استعمال کرنے کے منصوبے کی تیاری کی جارہی ہے؟۔

ایف آئی اے ہیڈکوارٹر سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سات، پانچ اور تین برس سے ایک ہی زون یا ونگ میں تعینات افسران کے تبادلوں کے نام پر بڑے پیمانے پر ٹی اے/ڈی اے فنڈز کے اجرا کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ اور نارتھ کو ہدایت کی گئی ہے کہ فوری طور پر افسران کی فہرستیں تیار کر کے ہیڈکوارٹر بھیجیں تاکہ کاغذی شفافیت کے اس کھیل پر عملی مہر لگائی جا سکے۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی سابق ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی نے اسی قسم کی پالیسی نافذ کی تھی، جس کے نتیجے میں نہ صرف درجنوں کیسز اور انکوائریز تباہ ہوئیں بلکہ ادارے کا تحقیقی فنڈ کروڑوں روپے کے نقصان سے دوچار ہوا۔ تبادلے کے نام پر ٹی اے/ڈی اے کی مد میں اربابِ اختیار نے دل کھول کر ادائیگیاں کیں اور بعد میں نصف سے زائد افسران کو واپس انہی زونز میں تعینات کر دیا گیا یعنی پالیسی ایک فائل سے زیادہ کچھ نہ تھی۔

اب چار برس بعد، ایک بار پھر وہی عمل دہرایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ڈائریکٹر جنرل واقعی اعلیٰ افسران ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے تبادلوں پر بھی اتنے ہی سخت ہیں جتنے سب انسپکٹرز اور اے ایس آئیز کے ساتھ؟ یا ایک بار پھر نیچے کے درجے کے افسران کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا؟

ذرائع کے مطابق ادارے کے پاس اضافی فنڈز کی کمی ہے، مگر اس کے باوجود روٹیشن پالیسی کے نام پر کروڑوں کے ٹی اے/ڈی اے اخراجات کی منظوری لی جا رہی ہے۔ اندرونی حلقے اس اقدام کو اصلاحات نہیں بلکہ ریسورس منیجمنٹ کے نام پر فنڈ مینجمنٹ قرار دے رہے ہیں۔

ادارے کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہا تو ایف آئی اے ایک بار پھر تحقیقات کے بجائے تبادلوں کا دفتر بن کر رہ جائے گا اور وہی کہانیاں دہرائی جائیں گی جو ہر چند سال بعد نئی پالیسی کے نام پر شروع کر دی جاتی ہیں۔