Screenshot_2025_1209_211315

کلک منصوبہ یا کلچرل کلنگ؟ 16 کروڑ کی لاگت، مرکزِ کھیل و ثقافت
، کرنل محمد خان لائبریری کی مسماری اور جماعت اسلامی چیئرمین کی معنی خیز خاموشی نے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سندھ حکومت کے ماتحت بلدیاتی اداروں اور کومپیٹیٹیو اینڈ لیوایبل سٹی آف کراچی (CLICK) کے زریعے ورلڈ بینک کے تعاون سے گلبرگ ٹاؤن میں 42 برس پرانی لائبریری اور 45 سال قدیم مرکزِ کھیل کی عمارت کو 16 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے مسمار کر دیا گیا۔پارک میں صرف شیڈ نصب کرنے اور گھاس لگانے جیسے معمولی کاموں پر کروڑوں روپے خرچ کرنے اور اس کے نتیجے میں مرکزِ کھیل و ثقافت سے منسلک کھلاڑیوں اور لکھاریوں کو ان کی سہولتوں سے مکمل محروم کرنے پر جماعت اسلامی کے منتخب چیئرمین کی غیر معمولی خاموشی شہری حلقوں میں تشویش اور شکوک کو شدید تر کر رہی ہے۔

ضلع وسطی، فیڈرل بی ایریا بلاک 10 کی یونین کونسل نمبر 8 میں "مرکزِ کھیل و ثقافت کی بحالی” کے نام پر شروع کیے گئے اس منصوبے کی لاگت 15 کروڑ 92 لاکھ 27 ہزار روپے لگائی گئی۔
بحالی کا دعویٰ کرنے والے منصوبے میں 1983 سے قائم کرنل محمد خان لائبریری کو بھی مکمل طور پر گرا دیا گیا جبکہ یہاں موجود ہزاروں قیمتی کتابوں اور ریکارڈ کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

منصوبے کے انجینئر EA Consulting Pvt Ltd تھے، جبکہ ٹھیکیداری محمد صدیق اینڈ برادرز اور (JV) پرویز خان اینڈ برادرز کو دی گئی، اور کاغذی طور پر اسے 9 ماہ میں مکمل دکھایا گیا۔

1980 سے فعال مرکز شہر کے بہترین کورٹس مگر ترقیاتی منصوبے نے سب مٹا دیا،یہ مرکز 1980 سے فعال تھا اور یہاں اعلیٰ معیار کا ٹینس کورٹ،علیحدہ تعمیر شدہ بیڈمنٹن کورٹ،کھلاڑیوں کی رہائش کے لیے کمروں جیسی سہولیات موجود تھیں، جہاں قومی و عالمی سطح کے بے شمار کھلاڑی تربیت یافتہ ہوئے۔
چالیس برس میں کبھی سرگرمیاں نہیں رکیں، اور یہ مقام کراچی کی اسپورٹس کمیونٹی کا مستقل مرکز سمجھا جاتا تھا۔

مگر اب اچانک چند مخصوص عناصر کی مبینہ مداخلت سے تاریخی ورثہ مسمار کر دیا گیا وہ بھی پارک میں گھاس اور شیڈ لگانے کی آڑ میں کیا گیا

شہری حلقوں کے مطابق پورے منصوبے میں جتنے تعمیراتی کام دکھائے گئے ہیں، ان کی تخمینی لاگت غیر حقیقی اور غیر معمولی طور پر بلند ہے۔مرکزِ کھیل و ثقافت کی تعمیراتی ویڈیو, ٹھیکیداروں کے نام اور لاگت کے اعداد و شمار عوام میں مزید سوالات پیدا کر رہے ہیں۔

عوامی مطالبات میں شدت ہے کہ لائبریری کیوں گرائی گئی؟ کتابیں کہاں گئیں؟،شہریوں، سابق کھلاڑیوں اور لکھاریوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لائبریری کی مسماری کا قانونی جواز پیش کیا جائے،ہزاروں کتابوں کی گمشدگی پر تحقیقات کی جائیں،پورے منصوبے کی بولی، ٹھیکوں اور اخراجات کا شفاف آڈٹ کرایا جائے،جماعت اسلامی چیئرمین کی مسلسل خاموشی کی وجوہات سامنے لائی جائیں۔

مرکزِ کھیل و ثقافت کی تاریخی اہمیت، عوامی لائبریری کی مسماری اور غیر معمولی لاگت کے ساتھ پیش کی گئی تعمیراتی ویڈیو نے اس منصوبے کو شدید تنازعے کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض تعمیراتی نہیں بلکہ شہر کے تاریخی ورثے، کھیل، ادب اور ثقافت کے قتل کا مقدمہ ہےجس کا جواب اب بھی کوئی دینے کو تیار نہیں۔