Screenshot_2025_1029_153943

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ماتحت اسپتالوں میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) 2024-25 کے فنڈز کے استعمال میں سنگین بد انتظامی، مالی بے ضابطگیوں اور کھلی لوٹ مار کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ صورتِ حال اس قدر سنگین ہے کہ سینئر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز ڈپارٹمنٹ کی سربراہ مہوش مٹھانی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، جبکہ میونسپل کمشنر افضل زیدی مکمل طور پر کارروائی سے محفوظ رہے حالانکہ فنڈز کی منظوری ان کے دستخط کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی۔

گزشتہ مالی سال کے ADP فنڈز سے مختلف اسپتالوں کے لیے طبی آلات کی خریداری دکھائی گئی لیکن حیران کن طور پر متعدد اسپتالوں میں وہ آلات پہنچے ہی نہیں جبکہ کئی جگہوں پر دستاویزات کے برخلاف سامان کی منتقلی ظاہر کی گئی۔ ٹینڈر میں شامل آلات کے بِل تو پاس ہوئے، ادائیگیاں بھی ہوئیں، مگر اسپتال خالی ایسا لگتا ہے جیسے پورا نظام صرف کاغذی فراڈ پر چل رہا ہو۔

دستاویزی شواہد کے مطابق تقریباً 4 کروڑ 45 لاکھ روپے مختلف اسپتالوں کے نام پر مبینہ طور پر خوردبرد کرلیے گئے، کئی پروجیکٹس میں آج تک ایک اینٹ تک نہیں رکھی گئی۔ عباسی شہید اسپتال میں ADP کے تحت شروع کیا گیا MRI پروجیکٹ اس فراڈ کی سب سے بڑی مثال بن کر سامنے آیا، جہاں نہ کوئی کام ہوا نہ کوئی پیش رفت، مگر 1.33 کروڑ روپے کا بِل باقاعدہ منظور اور ادا کردیا گیا۔ ریڈیولوجی ڈیپارٹمنٹ اور MRI اسٹاف کے مطابق سائٹ پر صفر کام موجود ہے اس کے باوجود فنڈز کا اجرا سرکاری اختیارات کے بدترین غلط استعمال کا ثبوت ہے۔

مزید انکشافات کے مطابق ڈینٹل چیئرز، ایکس رے مشینیں اور کئی دیگر آلات اصل تکنیکی اسپیسفکیشن کے مطابق کبھی سپلائی ہی نہیں کیے گئے۔ اس کے باوجود سپلائیز کے بِل باقاعدگی سے پراسیس ہوئے، رقم جاری ہوئی، مگر ڈیلیوری کی کوئی ویریفکیشن سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں۔ یہ عمل کھلی جعل سازی، ریکارڈ میں رد و بدل، اور منظم مالی بے ضابطگی کی صاف نشاندہی کرتا ہے۔

سرکاری دستاویزات میں جن افسران کے نام سامنے آئے ہیں ان میں شامل ہیں کہ میونسپل کمشنر افضل زیدی سینئر ڈائریکٹر (میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز) ڈاکٹر مہوش مٹھانی ڈائریکٹر میڈیکل سروسز KMC ڈاکٹر بابر خان ڈائریکٹر اسٹوراور وہ اسپتالوں کے انچارجز جنہوں نے سامان نہ ملنے کے باوجود منظوری دے دی۔

وہ وینڈرز جو اس مبینہ فراڈ میں شامل پائے گئے ہیں ان میں اسلم میمن (Proprietor Allied Enterprises) اور عبدالباسط/یاسر (Proprietor Bio Medical Star Enterprises) بھی شامل ہیں، جن کے خلاف بھی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تکنیکی بڈز اور ورک آرڈرز میں واضح تضادات موجود ہیں کئی ورک آرڈرز بعد میں کور اپ کے طور پر فیبریکیٹ کیے گئے۔ مزید برآں کروڑوں کے کئی منصوبوں مثلاً سرفراز رفیقی شہید اسپتال، شاہ فیصل کارڈیک اسپتال، عباسی شہید اسپتال کے OT، MRI اور C-Arm مشینزمیں جعلی بِلز اور مشکوک منظوریوں کا ریکارڈ موجود ہے۔

اس تمام صورتحال پر میونسپل کمشنر افضل زیدی کو سوال نامہ بھیجا گیا کہ سامان اسپتالوں تک پہنچا ہی نہیں تو آپ نے فنڈ کیسے جاری کیا اور ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں کس بنیاد پر ہوئیں؟ تاہم کمشنر زیدی نے مکمل خاموشی اختیار کرلی یہ خاموشی خود سب سے بڑا سوال بن گئی ہے کہ
کیا یہ نااہلی ہے، بدانتظامی ہے، یا سہولت کاری ہے؟