سندھ کے مضبوط اور بے خطا سمجھے جانے والے سسٹم نے آخرکار جامعہ کراچی کی قیمتی اراضی پر ’’حافظ‘‘ پیٹرول پمپ کی تعمیر مکمل کرتے ہوئے قبضے کے کھیل کا پہلا مرحلہ خاموشی سے مکمل کرلیا۔ اب دوسرے مرحلے میں سلور جوبلی اور گیت نمبر 2 کے قریب مزید قیمتی زمین پر کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کی خدمات لیے جانے کی تیاریاں جاری ہیں، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آئندہ قبضہ بھی قانونی دستاویزات کے پردے میں ہوگا۔

جامعہ کراچی کے عقب میں پیٹرول پمپ کی تعمیر شیخ الجامعہ، رجسٹرار، اسٹیٹ، لاء ڈپارٹمنٹس، سینڈیکیٹ ممبران اور ایک سابق پروفیسر کی کمال حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جنہوں نے کروڑوں روپے مالیت کی یونیورسٹی اراضی پر تعمیرات کو برق رفتاری سے مکمل کروا کر یہ ثابت کردیا کہ ادارہ جاتی طاقت جب قبضہ مافیا کے مفاد میں استعمال ہو تو قانون بے بس ہو جاتا ہے۔
جامعہ کراچی کی زمین پر نیا کھیل؟ سینڈیکیٹ اجلاس قبضہ مافیا کو قانونی راستہ دینے کی سازش ؟
رواں برس جامعہ کراچی کی اراضی پر قبضہ مافیا کی پے در پے کارروائیوں کے بعد بلایا جانے والا سینڈیکیٹ کا خصوصی اجلاس جس کی نشاندہی تحقیقات ڈاٹ کام نے ستمبر میں ہی کردی تھی درحقیقت سہولت کاری کا دوسرا نام ثابت ہوا۔سنجیدہ صورتحال یہ رہی کہ اجلاس میں زمینیں واگزار کرانے کے لئے پرائیویٹ وکلاء کے لیے بجٹ تو مختص کیا گیا، مگر فیس نہ ملنے پر وکلاء بھی عدالت میں خاموش بیٹھے رہے۔ دوسری طرف طلبہ تنظیموں سے احتجاج کروا کر دکھایا گیا کہ یونیورسٹی مخلص ہے، مگر حقیقت میں موجودہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ماضی کے مقابلے میں قبضہ مافیا کے لئے کہیں زیادہ آسانیاں پیدا کیں۔
تحقیقات ڈاٹ کام نے ستمبر کے اس خصوصی اجلاس جس کا واحد نکاتی ایجنڈا تھا کہ جامعہ کراچی کی زمینوں کو قبضہ مافیا سے واگزار کرایا جائے کے پس پردہ چلنے والے عمل پر سوال اٹھایا تھا کہ اس فیصلے کا اصل نتیجہ کیا نکلے گا اور کون سے عوامل قبضہ مافیا کو نئی سہولت فراہم کر سکتے ہیں؟۔وقت نے ثابت کردیا کہ یہ خدشات درست تھے۔
سینڈیکیٹ کا یہی اجلاس تنازعات کی لپیٹ میں اس لیے بھی آگیا کہ پس پردہ حقائق اور مشکوک کردار نہ صرف اجلاس میں موجود تھے بلکہ کئی اراکین خود زمینوں پر قبضے کے الزامات کا سامنا کر چکے ہیں۔
سوال یہ اٹھا کہ کیا یہ اجلاس واقعی زمین کے تحفظ کے لیے تھا یا قبضہ گروہ کے لیے نئی گلی کھولنے کی تیاری؟
جولائی 2025 میں جامعہ کراچی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے زمینیں کمرشل بنیادوں پر ٹھیکے پر دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن چیف سیکرٹری سندھ نے اسے منسوخ کردیا۔ اس دوران سینڈیکیٹ رکن صاحبزادہ معظم قریشی پر یہ سنگین الزام سامنے آیا کہ انہوں نے انہی زمینوں کی بولی کے عمل میں مبینہ طور پر غیرقانونی وصولیاں شروع کررکھی تھیں۔
یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ماضی میں سینڈیکیٹ اجلاسوں کے دوران آئی بی اے، ایچ ای جے، مختلف بینکوں سمیت دیگر اداروں کے لیے زمینیں باقاعدہ طریقے سے مختص کی جاتی رہیں جبکہ قبضہ مافیا کے خلاف واچ اینڈ وارڈ کی سخت نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائیوں سے قبضہ واگزار بھی ہوتا رہا۔
مگر اب وہی پس پردہ قوتیں دوبارہ سرگرم ہیں جو گزشتہ 10 برس سے جامعہ کراچی کے اہم امور میں اثرورسوخ رکھنے والوں کے ساتھ رابطے میں رہیں۔
اصل سوال اب بھی اپنی جگہ کھڑا ہے کہ کیا جامعہ کراچی نے یہ حکمت عملی واقعی اپنی زمین بچانے کے لیے اپنائی،
یا یہ قدم اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ جس زمین پر اب کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) دعویدار بن رہی ہے، وہ جلد قانونی لبادے میں اس پر اپنا مستقل قبضہ جمالے گی؟