کراچی میں متروکہ وقف املاک کی مبینہ عمارتوں اور خالی زمینوں پر ایف آئی اے اور متروکہ وقف املاک بورڈ کی مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایک نیا اور سنگین اسکینڈل منظرِ عام پر آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حالیہ کارروائیوں کے تناظر میں کراچی کاٹن ایسوسی ایشن پر کی گئی کارروائی کے خلاف پیر کے روز ایف آئی اے کراچی کے زونل آفس میں شدید احتجاج کیا گیا۔
احتجاج کے دوران کاٹن ایسوسی ایشن کے وفد اور ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی کے درمیان ملاقات ہوئی، جس کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ عمارت دوبارہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے حوالے کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس تمام صورتحال کے برعکس ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع قیمتی اراضی سے متعلق جعلی دستاویزات تیار کرنے میں سہولت کاری کے الزامات پر متروکہ وقف املاک بورڈ، کراچی میونسپل کارپوریشن (KMC) اور کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے عہدیداران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔


متروکہ وقف املاک بورڈ کا دعویٰ ہے کہ 1963 کے گزٹ میں شامل املاک پر کارروائی اس کا قانونی اختیار ہے اور 2021 میں سپریم کورٹ کے جاری کردہ حکم نامے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے اس کارروائی کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متروکہ وقف املاک بورڈ اور ایف آئی اے کے مشترکہ آپریشن سے ایک نیا اسکینڈل سامنے آنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ پیر کے روز کاٹن ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے ایف آئی اے کراچی کے زونل آفس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے کے سامنے احتجاج کیا، جس کے بعد مبینہ طور پر ایف آئی اے نے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی شروع کر دی، تاہم اسی دوران خاموشی سے مقدمہ درج کر لیا گیا۔

ایف آئی اے نے 12 دسمبر کو کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی عمارت واگزار کرانے کے بعد مقدمے کا اندراج کیا، جس میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سطح کے افسر کو مدعی نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے متروکہ وقف املاک بورڈ کے افسران کی ملی بھگت سے جعلی دستاویزات تیار کروا کر عمارت پر ملکیت کا دعویٰ کیا۔
تاہم اس مقدمے میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی جانب سے کسی بھی ملزم کی گرفتاری کے لیے کوئی عملی کوشش سامنے نہیں آئی، اور مبینہ طور پر نامزد تمام ملزمان کو عدالت سے ضمانت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ ماضی کے ایسے مقدمات کی مثالیں موجود ہیں جہاں سہولت کاری کے باعث تفتیشی افسران نے عدالتی پیروی میں دلچسپی نہیں لی، جس کے نتیجے میں فیصلے اکثر ملزمان کے حق میں آتے رہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بری ہونے کے باوجود ان مقدمات میں نامزد ملزمان نے کبھی ایف آئی اے کے خلاف قانونی کارروائی میں دلچسپی ظاہر نہیں کی، بلکہ ایسے مقدمات کے بعد ان کے تعلقات کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوتے رہے۔
کارروائی کے بعد متروکہ وقف املاک بورڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسرار شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کارروائی سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کی گئی ہے۔ ان کے مطابق مذکورہ عمارت 1963 کے متروکہ وقف املاک کے گزٹ میں شامل ہے اور اس کا ریکارڈ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کو بھی فراہم کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ کا کام عمارت کو ایسوسی ایشن کے قبضے سے لے کر اپنے قبضے میں لینا ہے اور عمارت میں موجود دفاتر سے نئے معاہدوں کے تحت کرایہ وصول کیا جائے گا۔
دوسری جانب کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے اپنی جاری کردہ پریس ریلیز میں موقف اختیار کیا کہ 12 دسمبر 2025 کو دوپہر ایک بجے متروکہ وقف املاک بورڈ اور ایف آئی اے کی جانب سے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع کاٹن ایکسچینج بلڈنگ (پلاٹ نمبر 6، سروے شیٹ SR-4، سرائے کوارٹر) پر غیر قانونی اور بلاجواز مشترکہ چھاپہ مارا گیا۔
کے سی اے کے مطابق یہ کارروائی اس حقیقت کے باوجود کی گئی کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا جا چکا تھا کہ مذکورہ جائیداد کراچی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے 2081 تک جاری قانونی لیز کے تحت کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے قانونی قبضے میں ہے۔
کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کی کاٹن اکانومی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے روزانہ نرخوں کے تعین کے نظام پر بینکوں، انشورنس کمپنیوں، ٹیکسٹائل سیکٹر، برآمدکنندگان، جنرز اور کاشتکاروں سمیت پوری تجارتی برادری انحصار کرتی ہے۔ مزید یہ کہ کے سی اے کی عمارت میں ملٹی نیشنل کمپنیوں سمیت متعدد بڑے کاروباری گروپس کے دفاتر قائم ہیں۔
کے سی اے کے مطابق انہیں ایک شوکاز نوٹس ارسال کیا گیا تھا جس میں عمارت کو متروکہ وقف املاک قرار دیا گیا، جس کا بروقت اور تفصیلی جواب دیتے ہوئے اسے غیر قانونی اور بے اختیار قرار دیا گیا۔ جواب میں واضح کیا گیا کہ کاٹن ایکسچینج کی عمارت کسی صورت متروکہ وقف املاک نہیں بن سکتی کیونکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن 1947 سے قبل انڈین کمپنیز ایکٹ 1913 کے تحت قائم ہو چکی تھی۔
پریس ریلیز کے مطابق یہ جائیداد ابتدا میں 20 نومبر 1883 سے 99 سال کے لیے کراچی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے سیٹھ عثمان صالح محمد، سیٹھ حاجی عبد الرحیم اور سیٹھ عبدالغنی حاجی عبد الرحیم کو لیز پر دی گئی۔ بعد ازاں 22 مئی 1936 کو رجسٹرڈ کنوینس ڈیڈ کے ذریعے کراچی کاٹن ایسوسی ایشن لمیٹڈ نے یہ جائیداد خرید لی، جو 1947 سے قبل کا قانونی عمل ہے۔ لیز کی مدت مکمل ہونے پر 1982 سے 2081 تک مزید 99 سال کے لیے لیز کی تجدید کی گئی، جس کا اندراج 31 جولائی 1936 کو لینڈ رجسٹر کے ایکسٹریکٹ میں بھی موجود ہے۔ اس کے بعد سے جائیداد مسلسل کراچی کاٹن ایسوسی ایشن لمیٹڈ کے نام پر درج ہے اور کے سی اے باقاعدگی سے پراپرٹی ٹیکس اور دیگر سرکاری ٹیکسز ادا کرتی رہی ہے۔
کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے زور دیا کہ چونکہ جائیداد کی منتقلی 1947 سے قبل ہو چکی تھی اور اس وقت کے سی اے موجود تھی، اس لیے یہ جائیداد نہ تو متروکہ اور نہ ہی متروکہ وقف املاک ایکٹ 1975 کے تحت ایویکی پراپرٹی قرار دی جا سکتی ہے۔
کے سی اے کے مطابق انہیں نہ تو کسی قسم کا پیشگی سیلنگ نوٹس موصول ہوا اور نہ ہی کسی قانونی اختیار کا حکم نامہ دکھایا گیا۔ چھاپے اور سیلنگ کے بعد جو واحد تحریری دستاویز فراہم کی گئی وہ عدنان دلاور نامی شخص کی ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر تھی، جو خود کو ایف آئی اے کا EO/Sub Inspector ظاہر کر رہا تھا، تاہم اس تحریر پر نہ ایف آئی اے کی مہر موجود تھی اور نہ ہی کسی قانونی اختیار کا ذکر تھا۔
کے سی اے نے الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی بدنیتی، حقائق کے منافی اور مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔ بعد ازاں ایف آئی اے اور متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں عمارت کو ٹرسٹ پراپرٹی قرار دے کر واگزاری کا دعویٰ کیا گیا، تاہم اس میں بھی کسی قانونی اختیار کا حوالہ شامل نہیں تھا۔
کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق یکم جنوری 1957 کے بعد کسی جائیداد کو ایویکی پراپرٹی قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ اس جائیداد کو کبھی بھی ایویکی پراپرٹی کے طور پر درج نہیں کیا گیا۔
آخر میں کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے ایف آئی اے اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے اس اقدام پر شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر کوئی سیلنگ نوٹس جاری کیا گیا ہے تو اسے فوری طور پر واپس لیا جائے اور عمارت کو فی الفور ڈی سیل کیا جائے۔ بصورت دیگر کے سی اے نے واضح کیا ہے کہ وہ قانون کے تحت تمام دستیاب قانونی راستے اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے، جبکہ اس غیر قانونی سیلنگ سے متاثر ہونے والے ایسوسی ایشن کے اراکین بھی علیحدہ قانونی کارروائی کا اختیار رکھتے ہیں۔