Screenshot_2025_1217_175305

فارما سیوٹیکل کمپنیوں کی آڑ میں منشیات اسمگلنگ کے ایک منظم، طاقتور اور بین الاقوامی نیٹ ورک کے رابطے یورپ، افریقی اور عرب ممالک میں غیر معمولی طور پر مضبوط ہوچکے ہیں۔ تحقیقات سے یہ ہوشربا انکشاف سامنے آیا ہے کہ محض ڈیڑھ برس کے دوران ٹراماڈول کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال دس برس کے ممکنہ اسٹاک کے برابر پاکستان منگوا لیا گیا، تاہم ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (DRAP) فارما سیوٹیکل کمپنیوں کے دباؤ کے باعث اسے کنٹرول دوا کی فہرست میں شامل کرنے میں ناکام رہی۔

ذرائع کے مطابق خام مال کی درآمد میں تقریباً تمام لوکل فارما سیوٹیکل کمپنیاں ملوث ہیں۔ ان کمپنیوں کے مالکان میں پولیس کے اعلیٰ افسران، فارما سیوٹیکل ایسوسی ایشن کے سابق عہدیداران، بڑے فارم ہاؤسز اور گائے بھینسوں کے کمیلے رکھنے والے بااثر افراد شامل ہیں۔

2025 کے آغاز میں کسٹمز اور ایکسائز نے تین مختلف کارروائیوں میں 20 ارب روپے مالیت کی ٹراماڈول ضبط کی، تاہم جون سے دسمبر کے دوران ایف آئی اے اور ڈریپ کی جانب سے تین کمپنیوں پر الگ الگ کارروائیاں ہونے کے باوجود نہ کوئی مقدمہ قائم ہوا اور نہ ہی کسی انکوائری کا اندراج کیا گیا۔ فیکٹریاں سیز ہونے کے بعد دوبارہ کھل گئیں۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن کمپنیوں میں ٹراماڈول کی تیاری پکڑی گئی، ان کے نام پر گزشتہ دو برس کے کسٹم امپورٹ ڈیٹا میں کبھی ٹراماڈول کا خام مال منگوایا ہی نہیں گیا۔ اس طرح خام مال منگوانے والی لوکل کمپنیاں دوہرے جرم میں ملوث پائی گئیں، مگر کوئی ادارہ کارروائی کرنے کو تیار نہیں۔

تحقیات ڈاٹ کام نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) سے دو مرتبہ ڈیٹا حاصل کیا۔ اس ڈیٹا کے مطابق جنوری 2024 سے نومبر 2025 کے دوران پاکستان میں قائم فارما سیوٹیکل کمپنیوں نے مجموعی طور پر 1 لاکھ 68 ہزار کلوگرام ٹراماڈول کا خام مال درآمد کیا، جبکہ پاکستان کی مجموعی سالانہ قانونی ڈیمانڈ صرف 5 سے 10 ہزار کلوگرام ہے، جو 380 سے زائد فارما سیوٹیکل کمپنیوں کے لیے 50 ملی گرام اور 100 ملی گرام کی تیاری کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔

دنیا بھر میں ٹراماڈول کی قانونی رجسٹریشن صرف 50 ملی گرام سے 100 ملی گرام تک ہے، اس سے زائد مقدار کی تیاری پر عالمی پابندی عائد ہے۔

دو برس قبل تک ٹراماڈول کی تیاری اور اسمگلنگ کا عالمی حب بھارت تھا، جہاں بھارتی حکام نے اس خام مال کو کنٹرول کیا۔ اس کے بعد یہ گھناؤنا کاروبار پاکستان منتقل ہوگیا۔ لوکل فارما سیوٹیکل کمپنیوں کے ایک منظم نیٹ ورک نے خطرناک حد تک ٹراماڈول کا خام مال پاکستان منگوا لیا، جس کے بعد پاکستان سے ایکسپورٹ کی آڑ میں سمندری راستوں کے ذریعے نائیجیریا سمیت افریقی، یورپی اور عرب ممالک کو اسمگلنگ شروع ہوگئی۔

تحقیقات کے مطابق عرب ممالک کے لیے ٹراماڈول فضائی راستے سے کھیپئیوں کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے، جہاں 225 ملی گرام اور 250 ملی گرام کی پیکنگ تبدیل کر کے جیبوں میں بھر کر لے جائی جاتی ہے اور کھیپئے اپنے ٹکٹ کا خرچ نکال لیتے ہیں۔

ٹراماڈول کا خام مال دراصل افیون کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے، جو ہیروئن کی اعلیٰ کوالٹی کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ عالمی اداروں نے اس کی حد 50 اور 100 ملی گرام اس لیے مقرر کی کہ اس سے زائد مقدار میں انسانی کیفیت تبدیل ہوجاتی ہے، جاگنے اور تکلیف برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افریقی ممالک، جہاں داعش، قبائلی تصادم اور وار لارڈز سرگرم ہیں، وہاں اس کی مانگ زیادہ ہے۔ انسانی اسمگلنگ کے روٹس پر بھی اس مقدار کی ٹیبلیٹس کی طلب بڑھ چکی ہے، جبکہ دیگر ممالک میں اس کا استعمال جنسی تسکین کے لیے کیا جا رہا ہے۔

خام مال منگوانے والی لوکل کمپنیوں میں PLIVIA Pakistan، MEDI SURE Pakistan، MBL Pharma، INVERTOR Pharma، MEDI MARKERS، MEDI CRAFTS، SAMI Pharma، THE SEARLE، M/S SWISS، JAVED Chemical، M/S PARKAR، ASTELLAS Pharma سمیت دیگر شامل ہیں۔

22 نومبر 2025 کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کے فیڈرل انسپکٹر ڈرگ (FID) کراچی ملیر نے نوری آباد صنعتی علاقے میں واقع CIBA Pharmaceutical میں 50 ملی گرام اور 100 ملی گرام کی رجسٹرڈ تیاری کے ساتھ ساتھ اسی پلاٹ پر 225 اور 250 ملی گرام کی غیرقانونی تیاری پکڑی۔ کسٹم امپورٹ ڈیٹا کے مطابق سیبا فارماسیوٹیکل نے گزشتہ دو برس میں خام مال درآمد ہی نہیں کیا۔ کمپنی کے مالک خالد شیخ، جو پہلے EROS Pharma کے شراکت دار تھے، نے موقف کے لیے بارہا رابطے کے باوجود خاموشی اختیار کی۔

یہ رپورٹ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں فارما سیوٹیکل کمپنیوں کی آڑ میں منشیات اسمگلنگ کا ایک منظم، بااثر اور عالمی نیٹ ورک سرگرم ہے، جسے ریاستی اداروں کی کمزوری، بااثر شخصیات کی پشت پناہی اور قانون کی بے بسی نے مزید طاقتور بنا دیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق PLIVIA Pakistan اور MBL Pharma کے مالک سلمان سلیم ہیں۔ ان دونوں کمپنیوں کے نام پر سب سے زیادہ ٹراماڈول کا خام مال منگوایا گیا۔ دونوں فیکٹریوں کی رجسٹریشن حب، بلوچستان میں ہے اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کے کوئٹہ میں تعینات فیڈرل انسپکٹر ڈرگ ان کی مانیٹرنگ پر مامور ہے۔ تاہم ان کمپنیوں کے سائٹ آفس نیو ایم اے جناح روڈ کراچی پر داود انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے قریب واقع ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ ان کمپنیوں کے پاس ٹراماڈول کی تیاری کی رجسٹریشن موجود ہی نہیں۔ باوثوق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ دونوں کمپنیاں ٹراماڈول کا خام مال دیگر لوکل کمپنیوں کو غیر قانونی طور پر فروخت کرتی ہیں، تاہم یہ کمپنیاں آج تک کسی بھی ادارے کے ریڈار پر نہیں آ سکیں۔ جب تحقیقات ڈاٹ کام کے نمائندے نے سوالات کیے تو کمپنی کے مالک کے بجائے وہاں موجود منیجنگ ڈائریکٹر سطح کے افسر نے نمائندے کو دھمکی دی کہ اگر خبر شائع ہوئی تو( برا )ہوگا۔

اسی طرح MEDISURE Pakistan کے مالک ڈاکٹر قیصر وحید ہیں، جو فارما سیوٹیکل ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی فیکٹری گلشن معمار کے عقب میں واقع سائٹ سپر ہائی وے ٹوصنعتی علاقے میں جبکہ گودام اور سائٹ آفس پرانی سبزی منڈی کے قریب واقع ہے۔ ان کے نام پر ٹراماڈول کے خام مال کی بھاری مقدار منگوائی گئی جبکہ کمپنی کے پاس صرف 50 اور 100 ملی گرام کی رجسٹریشن موجود ہے۔واضح رہے کہ MEDISURE LABORATORIES PAKISTAN کی مارچ 2021 سے کوشش ہے کہ وہ ٹراماڈول 225 ملی گرام کی ایکسپورٹ رجسٹریشن اور لائسنس حاصل کر سکے جس کے لئے اس کمپنی نے نائیجیریا کمپنی کا سہارا لیا اور 2021 میں سندھ ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی تھی جسے سندھ ہائی کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کو ٹراماڈول 225 ملی گرام گولیوں کی برآمد کے لیے اضافی دستاویزات طلب کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے اور محض درخواست دینے سے کسی کمپنی کو برآمدی این او سی کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہو جاتا۔

یہ فیصلہ اس وقت کے چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ اور جسٹس یوسف علی سید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 17 مارچ 2022 کو سنایا تھا۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ DRAP کے دائرہ اختیار میں ادویات تیار کرتی ہے، جن میں ٹراماڈول ایچ سی ایل پر مشتمل درد کش دوا ’ٹرامیکنگ‘ شامل ہے، جو مختلف طاقتوں میں تیار کی جاتی ہے، جن میں 225 ملی گرام بھی شامل ہے۔

کمپنی نے نائیجیریا کو ٹرامیکنگ 225mg کے 10 ہزار پیکٹس برآمد کرنے کے لیے DRAP سے اجازت (NOC) طلب کی تھی۔ تاہم DRAP نے این او سی جاری کرنے کے بجائے 30 جون 2021 کے ایک خط کے ذریعے کمپنی سے نائیجیریا میں اس دوا کی رجسٹریشن کا ثبوت اور خریدار کی جانب سے دستخط شدہ پرچیز آرڈر طلب کیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ماضی میں اسی دوا کی متعدد کھیپیں DRAP کی اجازت سے نائیجیریا برآمد کی جا چکی ہیں،نئی شرط عائد کرنا غیر قانونی، امتیازی اور ماضی کی پریکٹس کے خلاف ہے،کمپنی کو ماضی کی بنیاد پر legitimate expectation حاصل ہے،ڈریپ اضافی شرائط عائد کر کے کاروبار میں غیر ضروری رکاوٹ ڈال رہا ہے

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے اپنے وکیل کے زریعے جواب دیا تھا کہ محض درخواست دینے سے کوئی قانونی حق پیدا نہیں ہوتا،ٹراماڈول کے غلط استعمال اور غیر قانونی تجارت کے حوالے سے اقوام متحدہ (UNODC)، انٹرپول اور نائیجیریا کے اداروں کی رپورٹس سامنے آئی ہیں،نائیجیریا میں ٹراماڈول کے غیر طبی استعمال اور اسمگلنگ میں اضافے کے باعث پالیسی سخت کی گئی،ڈریپ اتھارٹی کے 112ویں او 115ویں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ برآمد سے قبل دوا کی درآمدی ملک میں رجسٹریشن اور قانونی حیثیت کی تصدیق لازمی ہوگی۔جس پر عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ این او سی ایک مراعات ہے، حق نہیں ہے۔پالیسی میں تبدیلی درخواست کے دوران بھی لاگو ہو سکتی ہے،ڈریپ کا خط حتمی حکم نہیں بلکہ صرف اضافی دستاویزات کی طلبی ہے،اتھارٹی کا فیصلہ عوامی مفاد، بین الاقوامی خدشات اور قانونی دائرہ اختیار کے مطابق ہے،عدالت پالیسی معاملات میں ریگولیٹری اتھارٹی کی جگہ اپنا فیصلہ مسلط نہیں کر سکتی ہے،عدالت نے درخواست کو بے بنیاد، قبل از وقت اور ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جبکہ تمام متفرق درخواستیں بھی خارج کر دی تھیں۔

سال2025 کے آغاز میں صوبائی ایکسائز کی گھگھر پھاٹک کے قریب کارروائی ہو، یا کسٹمز کی کورنگی صنعتی ایریا میں ماروی فارماسیوٹیکل پر چھاپہ، یا ابراہیم حیدری میں ان کے گودام (جو لوکل کمپنی IBL کے نام پر رجسٹرڈ ہے) پر کارروائی ہر جگہ 225 اور 250 ملی گرام کی دوائیں برآمد ہوئیں۔ انہی دنوں اتفاقیہ طور پر ڈاکٹر قیصر وحید کا بیٹا راحیل بیرون ملک (دبئی) روانہ ہوگیا تھا اور معاملہ ٹھنڈا ہونے کے بعد واپس آیا۔

بعد ازاں ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کراچی نے لیاری بس اڈے پر چھاپے کے دوران بس اڈے کے گودام سے ٹراماڈول کی 225 ملی گرام اور 250 ملی گرام ضبط کی تھی جس کی پیکنگ وہی تھی جو ماروی فارما اور اس کے گودام سے ملی تھی۔ بس اڈے کے مالک کے مطابق یہ مال ایران کے قریب پاکستانی علاقے کے لیے بک کیا گیا تھا اور ایک سوزوکی ڈرائیور یہ سامان دے کر گیا تھا۔

29 جولائی 2025 کو ایف آئی اے نے MEDISURE LABORATORIES Pakistan کے سبزی منڈی دفتر پر چھاپہ مارا تھا اسی علاقے میں وہی سوزوکی ڈرائیور بھی مل گیا جو لیاری بس اڈے پر بکنگ کروانے آیا تھا۔ ایف آئی اے نے راحیل اور سوزوکی ڈرائیور کو ساتھ لے کر سپر ہائی وے، گلشن معمار کے عقبی علاقے میں واقع فیکٹری پر چھاپہ مارا، تاہم اس وقت فیکٹری کے ساتھ خالی پلاٹ پر موجود 20 فٹ کا کنٹینر جل رہا تھا، جس میں وہی پیکنگ جلائی جا رہی تھی جو پہلے برآمد ہوچکی تھی۔ شواہد ضائع ہونے کے باعث ایف آئی اے قانونی کارروائی آگے نہ بڑھا سکی اور نیٹ ورک ایک بار پھر بچ نکلا۔

اسی نیٹ ورک میں حیات آباد پشاور میں واقع MEDI CRAFTS Pharmaceutical، M/S PARKAR (ایم ڈی: ہمایون عمران، منیجر فہد وہسار)، INVERTOR Pharma (مالک امتیاز احمد، سائٹ سپر ہائی وے)، THE SEARLE Company (مالک سید ندیم احمد) اور MEDI MARKERS (حیدرآباد سائٹ ایریا، مالک عائشہ عابد) شامل ہیں۔ یہ تمام کمپنیاں گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، اسپین اور بھارت سے بڑی مقدار میں ٹراماڈول کا خام مال درآمد کرتی رہیں۔

تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان کمپنیوں کو فارما سیوٹیکل ایسوسی ایشن کے بعض موجودہ و سابق عہدیداران کی مکمل سرپرستی حاصل ہے، جبکہ بے نامی پارٹنرز میں حاضر سروس پولیس افسران شامل ہیں جو وفاقی اور صوبائی سطح پر اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہیں۔ ان کمپنیوں کے مالکان کے فارم ہاؤسز ہی وہ مقامات ہیں جہاں غیر قانونی کاروبار، ترسیل اور تقسیم کے فیصلے طے پاتے ہیں۔

یہ رپورٹ اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ پاکستان میں ٹراماڈول کی آڑ میں صرف منشیات نہیں بلکہ ریاستی رٹ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریگولیٹری نظام کو بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس نیٹ ورک کے اصل سہولت کاروں تک کبھی ہاتھ ڈالا جائے گا یا یہ ایک اور فائل بن کر بند ہو جائے گی؟