Screenshot_2025_1219_194804

کراچی کی بندرگاہوں سے رواں برس تقریباً ایک ہزار کنٹینرز کے لاپتہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے جبکہ حیران کن طور پر یہ کنٹینرز پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹیڈ (پرال) کے مبینہ طور پر ڈیجیٹل ریکارڈ سے بھی غائب پائے گئے۔ ساوتھ زون میں ابھرنے والے اس نئے اسکینڈل نے اربوں روپے کی ممکنہ ٹیکس چوری کا دروازہ کھول دیا ہے جس پر اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا قوی امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق کسٹم ہاؤس کراچی میں اس معاملے پر ایک اہم ہنگامی اجلاس ہوا جس میں چیئرمین ایف بی آر زوم کے ذریعے شریک تھے جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اعلیٰ افسران، ممبر کسٹمز آپریشنز، چیف کلکٹر اپریزمنٹ ساؤتھ، کلکٹر کسٹمز اور تمام کلکٹریٹس کے کلکٹرز موجود تھے۔ اجلاس کے دوران فائلوں کی تفصیلی چھان بین جاری رہی اور صورتحال کو نہایت سنجیدگی سے لیا گیا۔

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں پہلے ہی 12 ہزار سے زائد کنٹینرز کی گمشدگی ملکی تاریخ کو ہلا چکی ہے اور اب 2025 میں ایک ہزار کنٹینرز کے دوبارہ لاپتہ ہونے نے پورے نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ زرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر اور چیئرمین کے پی ٹی دونوں نے اس معاملے پر سخت کارروائی کے واضح اشارے دے دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات کا آغاز ہوچکا ہے اور یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ پرال کے مرکزی نظام سے بھی یہ کنٹینرز ڈیجیٹل طور پر غائب ہیں، جو معاملے کو مزید مشکوک بناتا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے کراچی کی بندرگاہوں پر کنٹینرز کی مانیٹرنگ انتہائی سخت کردی گئی ہے اور متعدد کنٹینرز کو بلاک بھی کیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود لاپتہ کنٹینرز کا کوئی سراغ تاحال نہیں مل سکا۔

مزید یہ کہ ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی تیاری جاری ہے جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ لاپتہ کنٹینرز میں کیا سامان موجود تھا؟،ان کی مالیت کیا تھی؟،ان پر کتنا ٹیکس اور ڈیوٹی لاگو تھی؟،کیا وہ ٹیکس ادا کیا گیا یا نہیں؟،کتنی ڈیوٹی چوری ہونے کا امکان ہے؟،کنٹینرز کب سے غائب ہونا شروع ہوئے؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں برس ٹریکنگ کمپنیوں کی کارکردگی بھی کڑی تنقید کی زد میں آئے گی، کیونکہ بیشتر کنٹینرز کانوائے کے ذریعے منتقل ہوئے مگر اس کے باوجود ٹریس نہ ہوسکے۔

ملک کی بڑی بندرگاہوں سے کنٹینرز کی دوبارہ گمشدگی نے ایک بار پھر نظام میں موجود سنگین خامیوں کو اجاگر کردیا ہے، جس سے نہ صرف محصولات کو بھاری نقصان پہنچا ہے بلکہ پورے کسٹمز انفراسٹرکچر کی ساکھ بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔