جامعہ کراچی نے وزیر اعلیٰ سندھ، چیف سیکرٹری اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے من پسند اساتذہ کی انتظامی عہدوں پر تقرریاں برقرار رکھیں، حالانکہ سندھ بھر کی تمام جامعات نے اسی فیصلے پر فوری عمل درآمد کر دیا ہے۔ صوبائی پالیسی، عدالتی فیصلے اور SHEC کی سخت ہدایات واضح طور پر انتظامی عہدوں پر نان ٹیچنگ اسٹاف کی تعیناتی کو لازمی قرار دیتے ہیں، مگر وائس چانسلر خالد عراقی مستقبل قریب میں بڑے فیصلوں میں حصہ مانگنے کے لیے نئے حربے استعمال کر رہے ہیں۔

سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ تدریسی عملے کی انتظامی ذمہ داریوں پر تعیناتیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔ کمیشن کے مطابق تدریسی فیکلٹی یا پی ایچ ڈی ہولڈر کسی بھی غیر تدریسی یا انتظامی عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔


یہ احکامات سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ حیدرآباد کے 9 دسمبر 2025 کے فیصلے کی روشنی میں جاری کیے گئے۔ سرکاری خط
AD(Legal)/SHEC/1-71/2025 میں عدالت نے واضح لکھا ہے کہ کوئی بھی فیکلٹی ممبر یا پی ایچ ڈی ہولڈر اضافی انتظامی چارج، نگران یا کسی بھی قسم کی عبوری پوسٹ پر تعینات نہیں ہو سکتا۔
خط میں 2014 اور 2018 کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اصول دوبارہ واضح کیا گیا کہ تدریسی عملہ صرف تدریسی ذمہ داریوں کا اہل ہے۔
مزید برآں، سپریم کورٹ کے فیصلے C.P. No. 7 of 2024 کے مطابق تمام انتظامی عہدے صرف میرٹ اور رولز کے مطابق پُر کیے جائیں گے اور تمام غیر قانونی ایڈہاک یا اضافی چارج کی تعیناتیاں فوری طور پر ختم کرنا لازمی ہیں۔سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تمام جامعات کو 8 دن میں تحریری عمل درآمد رپورٹ جمع کرانے کا واضح حکم بھی جاری کیا ہے۔
سندھ کی تمام جامعات نے عدالتی اور حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد مکمل کر دیا، لیکن جامعہ کراچی نے ان فیصلوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے متعدد اہم انتظامی عہدے تدریسی فیکلٹی کو دیے رکھے ہیں، جو قانوناً نان ٹیچنگ اسٹاف کے لیے مخصوص ہیں۔
اس وقت جامعہ کراچی میں درج ذیل اہم انتظامی عہدے فیکلٹی کے پاس ہیں ان عہدوں میں رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عمران،
کنٹرولر آف ایگزامینیشن ،ڈاکٹر یاسر خان،سربراہ ٹرانسپورٹ،ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر قدیر محمد علی،
انچارج سیمسٹر سیل ڈاکٹر تاثیر احمد خان،
سیکورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر سلیمان زبیر،
گارڈن ہیڈ ڈاکٹر وقار،
ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل (QEC) ڈاکٹر عمران
انچارج ایڈمیشن ڈاکٹر صائمہ اور
ڈاکٹر انیلا امبر ملک متعدد انتظامی ذمہ داریاں یہ تمام عہدے سروس رولز کے مطابق نان ٹیچنگ کیڈر کے ہیں۔


تدریسی فیکلٹی کو انتظامی اختیارات دینے اور ہائی کورٹ کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی پر ایک سینیئر سرکاری افسر نے جامعہ کراچی انتظامیہ کو سخت قانونی نوٹس جاری کیا ہے، جسے VC آفس نے وصول بھی کر لیا ہے۔
نوٹس میں آئینی درخواست 1757/2024 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کوئی پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر، اسسٹنٹ پروفیسر یا پی ایچ ڈی ہولڈر کسی نان ٹیچنگ پوسٹ پر تعینات نہیں ہو سکتا،او پی ایس،ایڈہاک، اضافی چارج اور عبوری انتظامات قانونی طور پر جرم ہے،رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات، ڈائریکٹر ایڈمیشن، ڈائریکٹر QEC، سیکیورٹی ایڈوائزر اور انچارج سیمسٹر سیل جیسے کلیدی عہدے تاحال فیکلٹی کے قبضے میں ہونا سروس رولز، میرٹ اور کیڈر اسٹرکچر کی سنگین خلاف ورزی ہے۔درخواست گزار نے خبردار کیا کہ یہ طرزِ عمل جامعہ کراچی کو توہینِ عدالت،بدانتظامی،اختیارات کے ناجائز استعمال
اور مالی بحران کے دہانے
پر دھکیل رہا ہے۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ
غیرقانونی تقرریاں فوری ختم کی جائیں،تدریسی فیکلٹی ان کے اصل تدریسی فرائض پر واپس بھیجا جائے،آئندہ OPS یا ایڈہاک تقرری نہ کی جائے،میرٹ اور سینیارٹی کے مطابق قانونی تقرریاں کی جائیں۔
یہ درخواست 16 دسمبر 2025 کو عمران طاہر ملک کی جانب سے جمع کرائی گئی مگر وائس چانسلر اور مخصوص اساتذہ کا گروہ عدالت، چیف سیکرٹری اور SHEC کے فیصلوں کو مسلسل نظرانداز کر رہا ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا قانون جامعہ کراچی میں نافذ ہوگا؟،عدالتی فیصلوں، حکومتی احکامات اور SHEC کی پابند ہدایات کے باوجود جامعہ کراچی کی مسلسل مزاحمت ایک بڑا سوال کھڑا کرتی ہے کہ کیا صوبائی قوانین، عدالتی فیصلے اور حکومتی اختیار بھی جامعہ کراچی انتظامیہ کے سامنے بے بس ہیں؟