چھالیہ اسمگلنگ نیٹ ورک کی طاقت اتنی گہری نکلی کہ ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن (ڈی پی پی) نے وزیراعظم پاکستان کے واضح احکامات بھی پسِ پشت ڈال دیے۔ وفاقی حکومت نے سنگین بے ضابطگیوں، مبینہ ملی بھگت، جعلسازی اور قواعد کے من مانے تبدیل شدہ اطلاق کے الزامات پر ڈائریکٹر جنرل ڈی پی پی ڈاکٹر عطاء اللہ خان، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالباسط، ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹامولوجسٹ مزمل حسین سمیت اہم افسران کو فوری برطرف کر دیا ہے۔ معاملے کی اعلیٰ سطح پر چھان بین کے لیے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے ایڈیشنل سیکرٹری عالم زیب خان اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے گریڈ 21 افسر کو فیکٹ فائنڈنگ کی ذمے داری سونپی گئی ہے، جو براہِ راست وزیر اعظم کو رپورٹ پیش کریں گے۔ ساتھ ہی نیب اور ایف آئی اے کو بھی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔




وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ڈی پی پی کو پاکستان سنگل ونڈو (PSW) سے مکمل طور پر منسلک کر کے ملک بھر کی مستند لیبارٹریز کو بھی اس سسٹم سے جوڑا جائے گا، جبکہ چھالیہ امپورٹ کی کلئیرنس گرین چینل کے ذریعے ہوگی، اور ہر کنسائمنٹ میں سے ایک کنٹینر سسٹم خود کار طریقے سے کسی بھی لیبارٹری کے لیے منتخب کرے گا۔ مگر ڈی پی پی کے مخصوص افسران نے مبینہ سازش کے تحت یہ نظام فعال ہونے نہ دیا اور ملک کی معروف لیبارٹریز کو شامل ہونے سے روک دیا۔
اس منظم ملی بھگت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مخصوص چھالیہ فیکٹریوں نے صرف PCSIR لاہور لیبارٹری سے اپنی مرضی کے نتائج لے کر 20 ہزار میٹرک ٹن چھالیہ کلیئر کروا لیا۔ پوچھنے پر افسران نے یہ موقف اپنایا کہ "سسٹم لیبارٹریز کو قبول نہیں کر رہا”، جبکہ حقیقت اس کے برعکس نکلی۔
رواں برس مضر صحت چھالیہ امپورٹ کرنے والی کمپنیوں نے ڈی پی پی افسران کی پشت پناہی سے امپورٹ دگنی کر لی۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال کنٹینرز کی تعداد 300 سے بڑھ کر 600 ماہانہ ہوگئی۔ ان سب کے ٹیسٹ PCSIR لاہور میں کروائے گئے، جبکہ کراچی، ملتان، فیصل آباد اور لاہور کی مستند لیبارٹریز کو دانستہ طور پر سائیڈ لائن کیا گیا۔



وزیر اعظم پاکستان نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین کو ہدایت کی کہ ڈاکٹر عطااللہ خان، ڈاکٹر محمد باسط مزمل حسین سمیت دیگر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے چار امپورٹرز سے مبینہ کروڑوں روپے رشوت لے کر چھالیہ کے منظور شدہ فائیٹو سینیٹری امپورٹ قواعد میں بدنیتی سے تبدیلی کی۔
ڈاکٹر محمد باسط کا ریکارڈ بھی متنازع رہا ہے۔ وہ 2018 میں مضر صحت سویا بین کا جہاز چھوڑنے کے لیے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے رشوت لینے پر چھ ماہ جیل کاٹ چکے ہیں اور اب بھی ضمانت پر ہیں، جبکہ مقدمہ خصوصی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
یہ پورا گینگ کراچی کی PCSIR لیبارٹری، HEJ لیبارٹری، DESTO لیبارٹری، ملتان کی میاں نواز شریف ایگریکلچرل یونیورسٹی لیبارٹری، PSQCA کراچی و لاہور، NIBGE فیصل آباد، ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ فیصل آباد اور اینمل یونیورسٹی گھوڑا ہسپتال لاہور سمیت مستند اداروں کو نظر انداز کر کے صرف چار امپورٹرز کے سیمپل PCSIR لاہور بھجواتا رہا۔ باقی امپورٹرز کے نمونے ’ان فٹ‘ قرار دیے جاتے، جبکہ مبینہ طور پر 15 لاکھ روپے فی کنٹینر رشوت وصول کی جاتی رہی۔
پاکستان کی سب سے بڑی اینمل یونیورسٹی لاہور، جس کی لیبارٹری PNAC سے رجسٹرڈ ہے، اسے سسٹم سے منسلک نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ان افسران نے اس الحاق کے لیے دس کروڑ روپے تک طلب کیے۔ دوسری جانب PCSIR لاہور خود PNAC سے رجسٹرڈ ہی نہیں، مگر پھر بھی تمام سیمپل اسی کو بھجوائے جاتے رہے۔
DG ڈی پی پی عطا اللہ خان کی جانب سے وزارت کو ارسال کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چھالیہ کی درآمد کے قواعد تبدیل کرنے کا حکومتی فیصلہ ایک بار پھر ڈی پی پی کی اندرونی سیاست، اختیارات کے مراکز اور فائلوں میں mysteriously کی گئی ردوبدل کے باعث خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق عالمی معیار کے مطابق تیار کردہ 29 ستمبر 2025 کا نیا پروٹوکول جب DG نے جوائننگ کے بعد سائن کیا تو وہ اصل مسودے سے تبدیل شدہ تھا، جس نے پورے PSW/IRMS ڈیجیٹل سسٹم کو ہی ناکارہ بنا دیا۔
یہ اسکینڈل نہ صرف پاکستان کے درآمدی نظام کی شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ چند افسران کی ملی بھگت پورے قومی سسٹم کو مفلوج کر سکتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا نیب، ایف آئی اے اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تحقیقات اس نیٹ ورک کی مکمل پرتیں کھول پائیں گی یا معاملہ ایک اور فائل کی گرد میں دب جائے گا یہ آنے والا وقت بتائے گا۔