Screenshot_2025_1024_124113

ایف آئی اے امیگریشن ونگ کے سی پورٹس میں کرپشن، رشوت خوری، من پسند تعیناتیوں اور اختیارات کے بے دریغ استعمال کے سنگین معاملات سامنے آنے کے باوجود اعلیٰ افسران پس پشت ڈالتے رہے ہیں۔ حساس ترین بندرگاہوں پر برسوں سے تعینات اہلکاروں نے ایک منظم گروہ کی شکل اختیار کر لی ہے، جبکہ اعلیٰ سطح پر دی جانے والی زیرو ٹالرنس پالیسی صرف ایئرپورٹس تک محدود ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختیار ایئرپورٹس پر انسانی اسمگلنگ اور کرپشن کے خاتمے کے لیے براہِ راست مانیٹرنگ کر رہے ہیں مگر اسی امیگریشن ونگ کے انتہائی حساس شعبے سی پورٹس مکمل طور پر نظر انداز کر دیے گئے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کرپٹ عناصر کھل کر سرگرم ہیں۔

تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ سی پورٹس پر منظورِ نظر اہلکاروں کی مستقل تعیناتی نے کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ متعدد اہلکار ماضی میں کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات پر انکوائری کا سامنا کرنے کے بعد ہٹائے گئے تھے مگر اسسٹنٹ ڈائریکٹر حفیظ اللہ نے مبینہ طور پر اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں دوبارہ سی پورٹ پر تعینات کر دیا ہے جہاں انسپکٹر عباس علی شاہ پوری ٹیم کی صورت میں کارروائیاں چلا رہے ہیں۔
اسی طرح ایف آئی اے اہلکار اے ایس آئی شعیب کا تبادلہ دو ماہ قبل کر دیا گیا تھا مگر بااثر ہونے کے باعث تاحال چارج چھوڑنے سے گریز کر رہے ہیں۔ شپنگ ایجنٹس کا کہنا ہے کہ HC شعیب دھانی، HC فیصل بیگ، FC تاج ولی، عنایت علی ASI، سجاد، ASI محمد ڈینو، ASI نعمان غوری، ASI محمد شعیب اور ASI نفیس احمد کئی برسوں سے تعینات ہیں اور اب ایک مضبوط گروہ کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور یہ گروہ ان ہی اہلکاروں کی وجہ سے مضبوط ہے جس کے تانے بانے زونل آفس اور پھر اسلام آباد ہیڈکوارٹر تک مضبوط ہیں اور ہمیشہ ان کے خلاف کارروائی کو سرد خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی جانب سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں اور غیر ملکی شپنگ عملے سے سائن اِن اور سائن آف کے نام پر ہزاروں ڈالرز رشوت وصول کی جاتی ہے، جس سے ماہانہ 20 سے 25 لاکھ روپے تک کی غیر قانونی آمدنی حاصل کی جاتی ہے۔ دستاویزات نامکمل ہونے اور بے ضابطگیوں کے باوجود غیر ملکی جہازوں کو کلیئر کردیا جاتا ہے، جبکہ رشوت نہ دینے والوں کو تاخیری حربے بنا کر شدید مشکلات کا سامنا کرایا جاتا ہے۔
ذرائع نے صورتحال کو قومی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بندرگاہیں حساس دفاعی اور اسٹریٹجک مقامات ہیں، جہاں سخت اسکریننگ اور قانونی جانچ ناگزیر ہے۔ مگر مبینہ کرپشن کے باعث تمام ضابطے پس پشت ڈال دیے گئے ہیں۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ اہلکار کچھ عرصہ قبل جی اے سی (GAC) کمپنی سے مالی تنازع اور کرپشن کے الزامات پر زیرِ انکوائری بھی رہے اور انہیں سی پورٹ سے ہٹایا گیا تھا۔ اہلکار عنایت علی پر 10 لاکھ روپے وصولی کے سنگین الزامات بھی سامنے آئے۔ اس کے باوجود مبینہ اثر و رسوخ کے ذریعے انہیں دوبارہ اسی حساس ترین تعیناتی پر واپس لایا گیا۔

ذرائع کے مطابق نئے تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر مبینہ طور پر زمینی حقائق سے لاعلم ہیں یا خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث کرپٹ عناصر مزید بے خوف ہو گئے ہیں اور سی پورٹس پر غیر قانونی سرگرمیوں کا سلسلہ تیز ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ اس نیٹ ورک کے مضبوط رابطے ہیں اور ماضی قریب میں ان پر تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر سطح کے افسران کو بھی ان کے خلاف رپورٹ کر نے اور کارروائی کرنے پر عہدے سے ہٹایا جاتا رہا ہے ۔