پاکستان پوسٹ نے کراچی کے ایسٹ اور سینٹرل ڈویژنز میں ڈاک خانوں کی غیر معمولی بندش اور ضم کرنے کا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے متعدد اہم پوسٹ آفسز کو فوری طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق فیوچر کالونی پی او، دارالعلوم پی او، لانڈھی کالونی پی او، ملیر سٹی پی او اور سوک سینٹر پوسٹ آفس کو فوری بند کیا جا رہا ہے، جبکہ موسمیات چورنگی پوسٹ آفس کو گلستانِ جوہر ہیڈ پوسٹ آفس میں ضم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔گلزارِ ہجری پوسٹ آفس کو کراچی یونیورسٹی ڈیلیوری پوسٹ آفس اور ماڈل کالونی پوسٹ آفس کو ملیر کالونی ڈیلیوری پوسٹ آفس میں ضم کیا جا رہا ہے۔ تمام اقدامات 31 دسمبر 2025 تک مکمل کرنے کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔


شہر کے سب سے اہم حکومتی و انتظامی زون میں قائم سوک سینٹر پوسٹ آفس کی بندش نے نہ صرف شہریوں بلکہ صوبائی و بلدیاتی اداروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس دفتر کی موجودگی سرکاری خطوط، نوٹسز اور روزمرہ انتظامی امور کے لیے بنیادی سہولت سمجھی جاتی تھی۔
22 دسمبر کو جب متعلقہ عملہ دفتر بند کرنے پہنچا تو علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق شہریوں نے بتایا کہ قریب ترین کوئی متبادل پوسٹ آفس موجود نہیں جبکہ عوام کی بڑی رقوم اسی دفتر سے ادا ہونا تھیں۔ مزید یہ کہ بندش کی صورت میں نجی کوریئر کمپنیاں مہنگے داموں خدمات دیں گی جس کا سیدھا اثر عام لوگوں کی جیب پر پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق بند اور ضم کیے جانے والے دفاتر وہ مراکز ہیں جو وسیع پیمانے پر رہائشی، صنعتی اور تجارتی علاقوں کو سروس فراہم کرتے رہے ہیں۔ ان پوسٹ آفسز کی بندش سے ڈاک کی ترسیل اور تقسیم شدید متاثر،پنشن کی ادائیگی، بل جمع کرانا، سرکاری رقوم اور ایجنسی فنکشنز اور دیگر سرکاری سہولیات کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا
کاروباری و صنعتی حلقوں کے لیے اضافی بوجھ اور وقت کا ضیاع
یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پہلے سے دباؤ کا شکار پوسٹل نیٹ ورک مزید غیر فعال ہو سکتا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق سوک سینٹر پوسٹ آفس کی بندش کے بعد دو کلرک (BPS-9) اور ایک میل پیون (BPS-2) کو ڈی ایس پی ایس سنٹرل منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دیگر بند یا ضم ہونے والے دفاتر کے عملے کو بھی ضرورت کے مطابق مختلف مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پوسٹ کے ڈاک خانوں کی بندش یا ضم کرنے کی کارروائیاں کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں کراچی سمیت مختلف شہروں میں درجنوں دفاتر ختم کیے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں اسامیاں ختم ہونے سے نظام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ جو دفاتر باقی رہ گئے ہیں وہ بھی ناقص سہولیات، کم عملے اور خراب انتظامی ڈھانچے کے باعث شہریوں کے لیے مشکلات بڑھا رہے ہیں۔