Screenshot_2025_1204_223248

نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے سال 2025 کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، مگر رپورٹ کے منظرعام پر آتے ہی آن لائن گیملنگ، جعلی سازی اور غیر ملکیوں کا ڈیٹا چوری کرنے والے کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کو پوشیدہ رکھنے پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ گرفتار ملزمان کی عدالتی کارروائی میں سزاؤں کا تناسب صفر رہا جبکہ 46 ہزار سے زائد بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس منجمد کرنے کے دعوے، ایڈوائزری جاری کرنے کو کارکردگی قرار دینا اور مکمل رپورٹ کو حالیہ تعینات ڈائریکٹر جنرل خرم علی کے کھاتے میں ڈال دینا بھی موضوعِ بحث ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے اعلان کیا کہ 2025 میں ملک بھر میں سائبر جرائم کے خلاف ریکارڈ توڑ آپریشنز، مالی ریکوری، اہم گرفتاریاں اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی تحقیقات کی گئیں۔ایجنسی کے مطابق ڈائریکٹر جنرل سید خرم علی کی قیادت میں ادارہ قومی ڈیجیٹل تحفظ کے نئے معیار تک پہنچ گیا۔

رپورٹ کے مطابق 2196 بڑے نوعیت کے سائبر کرائم کیسز کی کامیاب تحقیقات
36 فیصد ریزولوشن ریٹ
2902 گرفتاریاں
774 کامیاب پراسیکیوشنز کی سفارش،5 بڑے ملکی و غیر ملکی سائبر نیٹ ورکس ناکام تاہم حیران کن طور پر سزاؤں کا تناسب صفر رہا، جس نے مجموعی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

ایجنسی نے مؤثر کارروائی کے دعوے کے ساتھ بتایا کہ سائبر فراڈ کے متاثرین کو 46 کروڑ 10 لاکھ روپے واپس کرائے گئے
46056 بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس منجمد کیے گئے
ایجنسی کے نزدیک یہ بڑے نتائج ہیں، مگر ماہرین کے مطابق اکاؤنٹس منجمد ضرور ہوتے ہیں، مگر کارروائیوں کی شفافیت اور عدالتی نتائج سامنے نہ آنا تشویش ناک ہے۔

رپورٹ کے مطابق آن لائن چائلڈ ایکسپلائیٹیشن کے خلاف "آپریشن براؤن”35 مقدمات درج، 35گرفتاریاں لیکن ان کیسز کا عدالتی انجام کیا ہوا؟رپورٹ اس پر مکمل خاموش ہے۔

ایجنسی نے خطرات کی پیشگی نشاندہی کے لیے اے ائی اور مشین لرننگ پر مبنی سائبر انٹیلیجنس پلیٹ فارمز300 سے زائد افسران کی جدید ٹریننگ کا دعویٰ کیا۔

ملک گیر آگاہی مہم میں 20لاکھ شہریوں تک رسائی30 سے زائد پبلک سروس ایڈوائزریز جاری کی گئی،لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ
ایڈوائزری جاری کرنا کارکردگی نہیں بلکہ روٹین کا کام ہے، مگر رپورٹ میں اسے نمایاں کامیابی بنا کر پیش کیا گیا ہے۔بین الاقوامی روابط انٹرپول کے ساتھ تعاون اور ریجنل فورم کی میزبانی کرنا یے۔

ایجنسی کے مطابق انٹرپول سمیت عالمی اداروں کے ساتھ تعاون میں اضافہ،ریجنل سائبر کرائم انویسٹیگیٹرز فورم کی میزبانی اور
5 سے زائد ہمسایہ ممالک کی شرکت ایک بڑی کامیابی ہے۔

رپورٹ میں نئی تشکیل دی گئی یونٹس کو بڑی کامیابی قرار دیا گیا ڈیجیٹل فارنزک اینڈ ایویڈینس یونٹ،فنانشل سائبر کرائم یونٹ،سائبر انٹیلیجنس یونٹ،آن لائن چائلڈ پروٹیکشن یونٹ،پبلک آگاہی و پریوینشن یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ۔

ڈی جی سید خرم علی کا کہنا تھا کہ2025 ہماری ٹیم کے عزم، مہارت اور محنت کا سال تھا۔ بڑے مجرم گروہوں کو بے نقاب کیا، متاثرین کو ریلیف دیا اور خطرات کے مقابلے کے لیے جدید حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔تاہم حلقوں میں یہ سوال موجود ہے کہ چند ہفتوں قبل تعینات ہونے والے ڈی جی کے نام پوری سالانہ رپورٹ منسوب کرنا کس حد تک درست ہے؟

ایجنسی نے آئندہ سال کے لیے اعلان کیا کہ نیشنل سائبر کرائم ریپورٹنگ پورٹل کا آغاز اہم معاشی اداروں کے ساتھ مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں (JITs) کا قیام عمل میں لانا ہے۔

اگرچہ رپورٹ کو ریکارڈ کا سال کہا جا رہا ہے، مگر آن لائن گیملنگ نیٹ ورکس،جعلی سازی گروپس،غیر ملکیوں کا ڈیٹا چوری کرنے والے کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں کا تذکرہ نہ کرنا اور سزاؤں کا صفر فیصد ریکارڈ
سالانہ رپورٹ کو شاندار کامیابی کم اور ایک نامکمل تصویر زیادہ بناتا ہے۔