Screenshot_2025_0804_133319

سندھ ہائیکورٹ میں سائبر کرائم کے ایک بڑے کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے Shuto and others، Dildar Hussain and another اور Ali Haider S/o Jameel سمیت متعدد ملزمان کی ضمانت مسترد کردیں۔

نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے مقدمہ نمبر 138/2025 اور 137/2025 میں زیر دفعہ 3، 4، 13، 14، 16، 26-PECA 2016 اور 34، 109-PPC کے تحت درج کیے گئے تھے۔

درخواستوں پر کارروائی فوجداری ضابطہ کار کی دفعہ 497 کے تحت ہوئی۔ عدالت نے تمام وکلائے صفائی کے مؤقف، ایف آئی اے کے دلائل اور تفتیشی مواد کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل شیر از راجپر اور تفتیشی افسر عدنان شاہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان ٹھوس شواہد کے ساتھ دھوکا دہی میں ملوث ہیں۔

عدالت کے سامنے جمع شواہد کے مطابق دھوکا دہی کا جعلی کال سینٹر،ملزمان ایک فراڈ کال سینٹر چلا رہے تھے،سوشل میڈیا پر جعلی سرمایہ کاری اسکیمیں چلائی گئیں۔
شہریوں کو غیر قانونی منصوبوں میں پیسہ لگانے کے لیے جھانسہ دیا گیا، غیر قانونی GSM/VoIP سسٹمز کا استعمال کیا گیا۔تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزمان متعدد GSM/SMS موڈمز،غیرقانونی کنفیگریشن والے سم کارڈز اور VoIP سسٹمز کے ذریعے ملک و بیرون ملک رابطے کرتے تھے۔

تفتیشی حکام نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے POS مشینیں، ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈز اور لاکھوں روپے کی رقم بھی ملی۔
ملزمان کی بنائی گئی جعلی بین الاقوامی ویب سائٹس، جیسے
www.agent.goldmansachsbtc.vip,
www.blackrockbtc.vip,
www.blackmansachsbtc.net
جعلی سرمایہ کاری دکھا کر عوام سے رقوم بٹورنے کیلئے استعمال کی گئیں۔

متاثرین کو منفی پروپیگنڈہ اور جعلی منافع دکھا کر لالچ دیا گیا۔فرضی منافع کے ڈیجیٹل اسٹیٹمنٹس بنا کر لوگوں کو مزید سرمایہ لگانے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان نے اپنے نیٹ ورک کو ایک نجی کمپنی کے پردے میں چھپا رکھا تھا تاکہ کارروائی سے بچا جاسکے۔

عدالت کے مطابق تمام ملزمان نے منظم ملٹری طریقے سے مخصوص کردار ادا کیے اور شہریوں کو دھوکا دے کر غیر قانونی مالی فائدہ حاصل کیا۔

عدالت نے کہا کہ الزامات سنگین نوعیت کے ہیں،تفتیش جاری ہےاور ملزمان کے خلاف شواہد بادی النظر میں موجود ہیں لہٰذا اس موقع پر ضمانت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
تمام درخواستیں ناقص بنیاد پر مسترد کردی گئیں۔