Screenshot_2025_1024_124113

ایف آئی اے کی سال 2025 کی ’’بہترین کارکردگی‘‘ کا خلاصہ یہ نکلا کہ مختلف انکوائریوں اور شکایات کی بنیاد پر 200 سے زائد افسران و اہلکاروں کو ملازمتوں سے برطرف کردیا گیا، درجنوں کی تنزلی کر دی گئی اور مزید 100 سے زائد کے خلاف کارروائی کی تیاری مکمل کر لی گئی لیکن اس تمام سخت گیری میں وہ افسران جو پولیس سروسز پاکستان سے تھے، انکوائری کی زد میں آنے کے باوجود بچا لیے گئے، جس نے ادارے کے اندر ایک واضح اور شرمندہ کن دوہرا معیار بے نقاب کردیا۔

اپریل 2025 میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر تعینات ہونے والے رفعت مختار راجہ سے ابتدا میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ سندھ پولیس میں اپنی سابقہ تعیناتی کی طرح لوئر اسٹاف کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کریں گے، مگر ایف آئی اے میں تعیناتی کے بعد ان کا مزاج بالکل مختلف دیکھنے میں آیا۔ سال 2025 میں کوئی بڑی انکوائری یا کیس ایسا سامنے نہیں آیا جسے ’’بہترین کارکردگی‘‘ قرار دیا جا سکے، مگر یہی سال لوئر اسٹاف سے لے کر اسسٹنٹ ڈائریکٹر تک کے افسران کے لیے ایک بھیانک خواب بن کر ابھرا۔

سال بھر میں ڈرائیور، ہیڈ کانسٹیبل، کانسٹیبل، اے ایس آئی، سب انسپکٹر، انسپکٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیت 200 سے زائد اہلکاروں کو برخاست کردیا گیا۔ ان میں 150 سے زائد وہ تھے جن کا تعلق یونان کشتی حادثے کی انکوائری سے تھا، مگر اسی انکوائری میں شامل پولیس سروسز پاکستان کے افسران پر ہاتھ ڈالنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے سیکرٹری داخلہ کو خط تحریر کرنے میں مسلسل ہچکچاہٹ رہی یعنی ایک بار پھر طاقتور محفوظ، کمزور نشانہ بن گیا۔

ایف آئی اے میں دلچسپ اور قابلِ تنقید واقعہ یہ بھی سامنے آیا کہ ایک ڈرائیور کو اس بنیاد پر نوکری سے نکال دیا گیا کہ 2021 میں بھرتی کے وقت اس کے پاس مستقل لائسنس کے بجائے لرننگ لائسنس تھا حالانکہ وہ 200 سے زائد امیدواروں میں امتحان میں پہلی پوزیشن پر آیا تھا۔ اسی ’’جرم‘‘ پر بھرتی عمل کی نگرانی کرنے والے انسپکٹر کو بھی تنزلی دے کر سب انسپکٹر بنا دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل رفعت مختار راجہ کی ملک بھر کے زونل ہیڈکوارٹرز پر گرفت نہ ہونے کے برابر رہی، نتیجتاً 2025 میں کسی بڑے مقدمے کی تفتیش میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی۔ کراچی میں ڈائریکٹر ایف آئی اے منتظر مہدی کی تعیناتی نے صورتحال اور بھی دھواں دھار بنادی، جہاں کراچی زون اور ہیڈکوارٹر کے درمیان سرد جنگ نے ادارے کو اندر سے کمزور کردیا۔ زونل بورڈز کے اجلاس کم ہوتے رہے، مقدمات کے چالان عدالتوں میں تاخیر سے جمع ہوئے، انکوائریاں مقدمات میں تبدیل نہ ہوسکیں، اور شکایات انکوائریوں کا روپ دھارنے سے پہلے ہی فائلوں میں دب گئیں۔
مختصراً، سال 2025 ایف آئی اے کے لیے انتظامی انتشار، دوہرے معیار، کمزور قیادت اور ٹوٹے ہوئے نظام کا سال ثابت ہوا،برطرفیاں بہت ہوئیں، مگر کارکردگی کہیں نظر نہیں آئی۔