وفاقی وزارت داخلہ کے ویزہ سیکشن میں جعلی دستاویزات پر ویزے جاری کرنے کے اسکینڈل نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جب ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے اپنی ہی ایجنسی کے دو اہلکاروں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار اہلکاروں میں ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کے سب انسپکٹر وسیم احمد اور سپاہی عاقب محمود شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے گرفتار ملزم سے 20 لاکھ روپے رشوت وصول کی اور عدالتی تحویل کے دوران اس سے اہم ڈیجیٹل شواہد مٹوا دیے۔

ذرائع کے مطابق، مذکورہ اہلکاروں نے گرفتار ملزم زبیر احمد جو جعلی ویزہ فراہمی کیس (مقدمہ نمبر 242/2025) میں گرفتار ہے — کو رات کی تاریکی میں لاک اپ سے باہر نکالا، اس کے بیٹے سے فون پر بات کروائی، اور پھر اس کے ضبط شدہ موبائل فون کا لاک کھلوا کر اہم ثبوت حذف کروا دیے۔


یہ انکشاف انسپکٹر عبداللہ کیانی کی تحریری شکایت پر سامنے آیا، جس پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ نمبر 38/2025 درج کیا اور دونوں اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد وفاقی وزارت داخلہ کے ویزہ سیکشن میں جاری جعلسازی کے اسکینڈل پر ایک نئی انکوائری تشکیل دی گئی ہے تاکہ اس گھمبیر معاملے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔
ایف آئی اے کے اندرونی ذرائع اس واقعے کو ادارے کی ساکھ پر بڑا دھچکہ قرار دے رہے ہیں۔ ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ، "اگر تفتیشی افسر خود ہی شواہد کو مٹانے لگے تو انصاف کیسے ممکن ہوگا؟”
وزارت داخلہ اور ایف آئی اے دونوں کو اس وقت شدید عوامی تنقید اور اندرونی احتساب کے مطالبات کا سامنا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس پاکستان کے امیگریشن نظام کی شفافیت اور قانونی عملداری پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔