fbr-and-pakistan-customs

ایف بی آر نے ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی کسٹمز کراچی کے قریب ڈھائی برس قبل ایک انکوائری میں اس وقت کے ڈائریکٹر،ڈپٹی ڈائریکٹر اور ایک سپرٹینڈنٹ کو بچانے کے لئے سپرینٹنڈنٹ سید عدنان کفیل کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سزا سنا دی گئی۔

ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن کسٹمز کراچی میں 2024 کے دوران سپرٹینڈنٹ اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن ارشاد شاہ کی ہدایت پر اپریزمنٹ میں تعینات سپرینٹنڈنٹ سید عدنان کفیل حب ریور روڈ پر موچکو چیک پوسٹ گئے جہاں ایرانی ٹائلز سے لدے دو ٹرالرز کو روک کر دستاویزات طلب کیں تاہم اس وقت ٹرالرز میں موجود افراد کے پاس دستاویزات موجود نہیں تھیں تو ان دونوں ٹرالرز کو کسٹم انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن کے دفتر منتقل کردیا گیا جہاں ان ٹرالرز کی دستاویزات سامنے آنے پر دونوں کو کلئیر کردیا گیا۔

بعد ازاں یہ دونوں ٹرالرز بااثر حلقوں کے ہونے پر ادارہ جاتی تحقیقات شروع ہوئیں جس میں انکوائری کے دوران اس وقت کے سپرٹینڈنٹ ارشاد شاہ اپنے بیان سے مکر گئے کہ ڈائریکٹر جنرل حبیب اکرم وڑائچ اور ڈپٹی ڈائریکٹر واصف ملک سمیت کسی نے بھی سید عدنان کفیل کو نہیں کہا کہ وہ موچکو چیک پوائنٹ جا کر اینٹی اسمگلنگ کارروائیوں کی۔نگرانی کریں ۔

دوسری جانب برطرف سپرٹینڈنٹ سید عدنان کفیل نے اس کارروائی سے قبل ایک درجن کے لگ بھگ کیسسز کا ریکارڈ انکوائری افسر کو پیش کیا جس میں کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن کراچی کی کارروائیوں میں ان کا نام شامل تھا کہ ان کی خفیہ معلومات پر یہ کارروائیاں کامیاب رہیں جبکہ اس کارروائی میں بھی اس وقت کے اعلی افسران نے انہیں ہدایت کی تھی اور اسی لئے وہ چیک پوسٹ گئے تھے۔

اس پوری کارروائی میں ایف بی آر حکام نے کمزور گردن والے افسر کو ہی نشانہ بنایا جبکہ اثر و رسوخ افسران۔کو بچا لیا گیا اور وہ اس وقت مختلف اہم عہدوں پر بھی تعینات ہیں۔

یاد رہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (کسٹمز) کراچی کے سپرنٹنڈنٹ (بی ایس-17) سید عدنان کفیل کو سنگین محکمانہ الزامات ثابت ہونے پر سروس سے برطرف کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق افسر کے خلاف نااہلی (Inefficiency)، بدانتظامی (Misconduct) اور بدعنوانی (Corruption) کے الزامات کے تحت محکمانہ کارروائی شروع کی گئی تھی۔

ابتدائی انکوائری میں ان پر محکمانہ ایس او پیز کی خلاف ورزی، اختیارات سے تجاوز اور اپنے اعلیٰ افسران کو بروقت آگاہ نہ کرنے کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ابتدائی انکوائری افسر نے سزا کے طور پر تین سالانہ انکریمنٹس روکنے کی سفارش کی تھی، تاہم بااثر حلقوں کے اعتراض پر مجاز اتھارٹی نے انکوائری رپورٹ میں اہم نکات نظرانداز ہونے پر ازسرنو ڈی نووو (De Novo) انکوائری کا حکم دیا تھا۔

دوسری انکوائری میں نئے انکوائری افسر نے الزامات کا ازسرنو جائزہ لیا اور سفارش کی کہ افسر کو سروس سے برطرف (Dismissal from Service) کیا جائے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق محکمانہ نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ سید عدنان کفیل نے اپنے ڈرائیور اور سپاہی کے ہمراہ ایرانی ٹائلز سے لدے دو ٹرالروں کو موچکو کسٹمز چیک پوسٹ کے قریب روک کر انہیں کلیئر کرانے میں کردار ادا کیا۔

دستاویز کے مطابق بعد ازاں ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (کسٹمز) کراچی نے کارروائی کرتے ہوئے ٹرالروں کو روک لیا جبکہ ایف آئی اے نے ملزم افسر، ڈرائیور اور سپاہی کو تحویل میں لے لیا تھا جنہیں اسی دوران عدم شواہد کی بناء پر رہا کردیا گیا تھا۔

حتمی انکوائری رپورٹ میں کہا گیا کہ متعلقہ افسر نے اعلیٰ حکام سے اجازت لیے بغیر کارروائی کی۔اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔محکمانہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کی۔

اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے کہ ٹرالروں کو ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کی جانچ کے بعد چھوڑا گیا تھا۔
انکوائری افسر نے ان تمام امور کو سنگین بدانتظامی قرار دیتے ہوئے بڑی سزا کی سفارش کی۔

ایف بی آر کے ممبر (ایڈمن/ایچ آر) نے تمام ریکارڈ، شوکاز نوٹس کے جواب، ذاتی سماعت اور انکوائری رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت سید عدنان کفیل کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ معطلی کی مدت کو قواعد کے مطابق رخصت تصور کیا جائے گا، جبکہ برطرف افسر کو 30 روز کے اندر اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کرنے کا حق بھی حاصل ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے