Screenshot_2026_0703_153644

کسٹم اپریزمنٹ فیصل آباد نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے دوران پارکو لائن سے پیٹرول چوری ہونے کا الزام تسلیم کرلیا ،پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ کو لائسنس منسوخی کا شو کاز نوٹس جاری کردیا گیا ،ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کے مقدمے میں ملزمان کے خلاف تاحال کوئی کارروائی شروع نہیں ہوئی ،ملزمان نے ضمانت کے لئے عدالت سے بھی رجوع نہیں کیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ماتحت کلکٹریٹ آف کسٹمز (اپریزمینٹ) فیصل آباد نے پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ (PARCO) کے خلاف سنگین ضابطہ خلافزیوں پر کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے کمپنی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق پارکو پر الزام ہے کہ اس نے اپنے پبلک بانڈڈ ویئر ہاؤس سے Gas & Oil Pakistan Limited (GO) کو 2 کروڑ 38 لاکھ 9 ہزار 324 لیٹر موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کسٹمز قوانین اور قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فراہم کیا۔

تحقیقات ڈاٹ کوم کو دستیاب شوکاز نوٹس کے مطابق پارکو کو کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 12 اور کسٹمز رولز 2001 کے رول 343 کے تحت فیصل آباد کے جھمرہ روڈ، گٹی پر واقع اپنے پبلک بانڈڈ ویئر ہاؤس میں ہائی اسپیڈ ڈیزل اور موٹر اسپرٹ ذخیرہ کرنے کا لائسنس دیا گیا تھا۔ کمپنی کو ویبوک (WeBOC) سسٹم میں ایک منفرد یوزر آئی ڈی بھی فراہم کی گئی تھی تاکہ وہ گودام میں آنے اور جانے والے سامان کا ریکارڈ، Ex-Bond Goods Declarations (GDs) کی تصدیق، گیٹ اِن اور گیٹ آؤٹ آپریشنز اور بانڈ ٹو بانڈ ٹرانسفرز قانون کے مطابق انجام دے سکے۔

شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 97 کے تحت بانڈڈ ویئر ہاؤس میں موجود سامان کو صرف قانونی کلیئرنس، برآمد یا مجاز ٹرانسفر کی صورت میں ہی باہر نکالا جا سکتا ہے، جبکہ دفعہ 99 کے مطابق ایک بانڈڈ ویئر ہاؤس سے دوسرے بانڈڈ ویئر ہاؤس منتقل کرنے کے لیے کلکٹر کسٹمز کی پیشگی اجازت لازمی ہے۔ اسی طرح کسٹمز رولز 2001 کے رول 468 کے تحت ویئر ہاؤس لائسنس ہولڈر پابند ہے کہ وہ اپنی منفرد WeBOC شناخت استعمال کرتے ہوئے Ex-Bond GD کی مکمل تصدیق کے بعد ہی درآمد کنندہ کو سامان فراہم کرے۔

دستاویز کے مطابق یکم جنوری 2026 سے 24 جون 2026 کے دوران Gas & Oil Pakistan Limited کی موٹر اسپرٹ کلیئرنس کا ریکارڈ جانچنے پر یہ انکشاف ہوا کہ پارکو نے فیصل آباد کے اپنے پبلک بانڈڈ ویئر ہاؤس سے دو کروڑ 38 لاکھ 9 ہزار 324( 23,809,324 )لیٹر موٹر اسپرٹ متعدد مواقع پر Ex-Bond GD کی تصدیق کے بغیر فراہم کی۔ بعض معاملات میں سامان کی ترسیل WeBOC میں قانونی منظوری کے بغیر دوسرے بانڈڈ ویئر ہاؤسز کو بھی کی گئی۔

شوکاز نوٹس کے مطابق پارکو نے بعض مواقع پر درآمد کنندہ کو سامان اس وقت فراہم کیا جب نہ تو Ex-Bond GD فائل کی گئی تھی اور نہ ہی متعلقہ کسٹمز ڈیوٹیز اور ٹیکس ادا کیے گئے تھے۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں قومی خزانے میں ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی وصولی تاخیر کا شکار ہوئی جبکہ بعض معاملات میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) بھی غلط بنیادوں پر وصول کی گئی۔

کسٹمز حکام کا مؤقف ہے کہ پارکو کے اقدامات کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعات 97، 99 اور 116 اور کسٹمز رولز 2001 کے رول 468 کی صریح خلاف ورزی ہیں، جو کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 156(1) کی شق 1، 58 اور 62 کے تحت قابل سزا جرم بنتی ہیں۔

ان الزامات کی بنیاد پر کلکٹریٹ آف کسٹمز (اپریزمینٹ) فیصل آباد نے پارکو کو جاری کردہ پبلک بانڈڈ ویئر ہاؤس لائسنس نمبر 04/BWH/PUB/2000 منسوخ کرنے کے لیے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کمپنی سے وضاحت طلب کر لی ہے۔
ا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے